نام اے محبت
Poet: Shamsul "ShamS" By: Shamsul Hasan, New Delhiمیں سوچتا ہوں تیرا نام محبت رکھ دوں
اور تامر تجھے پیار محبت کرتا رہوں
میری آنکھوں کے درچو پہ بیٹھ جاتے ہیں
كھشميذاجي سے خوش مزاج کچھ خیال تیرے
آج کی رات مجھے یہ ہی کام کرنا ہے
مجھ کو حل کرنے ہیں یہ الجھے الجھے بال تیرے
تیرے لبوں کی شوكھيو کو چومنا ہے مجھے
آج بس عشق کے نشے مے جھومنا ہے مجھے
تیری مسکراہٹ پہ میں جاں نثار کرتا رہوں
اور تامر تجھے پیار محبت کرتا رہوں
جھیل سے گہری یہ تیری نیلی نگاہیں توبا
اور پھر اسپے شرمو حیا کی ادايے توبا
کہیں میری نظر ہی تم کو نہ لگ جائے
قریب آؤ کے میں لے لوں بلايے توبا
تمہے میں روح تک محسوس کرنا چاہتا ہوں
تیری جلپھو تلے میں شب گزارنا چاہتا ہوں
تیری ہر بات کا میں نے اعتبار کرتا رہوں
اور تامر تجھے پیار محبت کرتا رہوں
میرے ہر ایک سوال کا جواب تم سے ہے
میری آنکھوں مے بسا ہر خیال تم سے ہے
تم بات بات پہ جو جان روٹھ جاتی ہو
مجھے بس جانے وفا یہ ملال تم ہے
اپنے ہونٹوں پہ میرے گیت سزا لو آکے
کہیں میں روٹھ نہ جاؤں کے منع لو آکے
یہ خطا اے عشق میں بار بار کرتا رہوں
اور تامر تجھے پیار محبت کرتا رہوں
کئی مدت سے تیری تلاش ہے دل کو
تم مجھے اپنا كهوگي یہ آس ہے دل کو
میں نے ٹھکرا دی ہیں سارے سمندر کیونکہ
جام کی نہیں بس تیری پیاس ہے دل کو
دو گھڑی کے لئے مجھ کو دیدار کرنے دو
كھيذا اے دل کو گنچا بہار کرنے دو
پھر میں مدت کے لئے دل بے قرار کرتا رہوں
اور تامر تجھے پیار محبت کرتا رہوں
میں سوچتا ہوں تیرا نام محبت رکھ دوں
اور تامر تجھے پیار محبت کرتا رہوں
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے






