نام لینے سے ترا مٹھاس آتی ہے زبان میں
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaنام لینے سے ترا مٹھاس آتی ہے زبان میں
ترے تصور سے بکھرتی ہے مہک ہر ارمان میں
تُو ملیگی یا نہیں یہ سوچونگا بعد میں
فلحال احساس ترا رہتا ہے دل و جان میں
ترے حسن کی جاناں کوئی اور مثال بھی
نہ ملیگی زمین پہ نہ ہی آسمان میں
جب بنایا ہو گا خدا نے تجھے اے جانم
حسن سارا رکھا ہو گا اپنے دھیان میں
میری تمناؤں کو گھر دو بے گھر ہیں
اک کونہ دو فقط دل کے مکان میں
میر و غالب ، داغ و مومن اگر ہوتے آج زندہ
ذکر وہ بھی ضرور کرتے ترا ہر دیوان میں
نہالؔ کی یہ ہے دیوانگی ترے واسطے جاناں
پھول نہیں ترا نام لکھ کر رکھا ہے گلدان میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






