یونہی بدنام ہے کہ بے وفا ہوتی ہیں لڑکیاں
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaیونہی بدنام ہے کہ بے وفا ہوتی ہیں لڑکیاں
ارمان سانسوں میں روز کتنے پروتی ہیں لڑکیاں
کہاں ملتی ہے ترجی زمانے میں بھلا اِن کو
کون جانے کیسے ، کب ، کیوں روتی ہیں لڑکیاں
عزتِ گھر کی فکر اور بے تابیاں عشق کی
سب سوتے ہیں مگر کہاں سوتی ہیں لڑکیاں
عمرِ جوانی میں بڑی الجھنیں سہتیں ہیں
خوابوں کو آنکھوں تک بوتی ہیں لڑکیاں
بے بسیوں کی مہندی لگا کے ہائے نہالؔ جی
ہاتھوں کو اشکوں سے پھر دھوتی ہیں لڑکیاں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






