نجانے وقت سے پہلے وفا نہیں ہوتا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیانجانے وقت سے پہلے وفا نہیں ہوتا
جسے کسی سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا
رہے گا آ کے تغیر ، اصول قدرت ہے
کوئی گرے گا تو یہ سلسلہ نہیں ہوتا
یہ دیکھنا مرا دشمن بھی دوست ہو گا مرا
مرے سلوک سے جب مسئلہ نہیں ہوتا
مجاہدوں سی جو تم زیست کر رہے ہو بسر
جہاں کا خوف ہو دل سے جدا نہیں ہوتا
سکون آج بہت ہے اداس دل کو مرے
تمھارے جانے سے شاید خلا نہیں ہوتا
خفا نہ ہو مری محبوب دل ہے دیوانہ
قریب پا کے تمھیں کچھ خفا نہیں ہوتا
اٹھا کے فرش سے موتی کو چوم لو وشمہ
غزال چشم کا آنسو بہا نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






