مرا وجود کہیں اور رہا نہیں ہوتا

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

مرا وجود کہیں اور رہا نہیں ہوتا
غبار آئینۂ میں فنا نہیں ہوتا

لہو کا رنگ جھلکتا ہے آنسوؤں میں کہیں
نہ خاک دل سے مرا حوصلہ نہیں ہوتا

اس انتشار میں کوئی پتا نہیں چلتا
جو گرد بیٹھے ہے تو اک ادا نہیں ہوتا

چمک اٹھی ہیں کھنڈر کی شکستہ دیواریں
کدھر سے رنگ و بو کا قافلہ نہیں ہوتا

نہ جانے کیا ہے کہ جب بھی میں اس کو دیکھتی ہوں
جو کوئی اور ہو تو رو بہ رو کھڑا نہیں ہوتا

لیے دیئے ہوئے رکھتا ہے خود کو وہ لیکن
جہاں بھی غور سے دیکھو نیا نہیں ہوتا

جڑا ہے ذات سے اس کی ہر ایک شعر اس کا
جو پتا شاخ سے توڑا ہرا نہیں ہوتا

نہ دھند چھٹتی ہے آنکھوں کے سامنے سے کبھی
کہ اس جہاں میں کوئی دوسرا نہیں ہوتا

نہ چاند ابھرتا ہے دیوار شب سے وشمہ کئی
نہ سر و غم سے کسی قد بڑا نہیں ہوتا

Rate it:
Views: 512
27 Mar, 2018
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL