نسیم سحر چمن کے گلوں سے کھیلتی رھی رات بھر
Poet: Hassan Kayani By: Hassan Kayani, Leeds (UK)نسیم سحر چمن کے گلوں سے کھیلتی رھی رات بھر
حنا کی خوشبو سانسوں میں مہکتی رھی رات بھر
مدتوں بعد آج دیکھاجو انکو نظر بھر کے ھم نے
انکے رخ زیبا سے روشنی چھلکتی رھی رات بھر
دل میں چراغ محبت جلتے رھے اور بجھتے رھے
ان کے لہجے کی چہک یاد آتی رھی رات بھر
آج کی شب چاندنی جگمگاتی رھی ٹمٹماتی رھی
اور ان کی زلفوں کی تصویر ستاتی رھی رات بھر
حسن انکے گاؤں کے کھیتوں کی ھریالی لبھاتی رھی
اور ان کے بچپن کے قصے سناتی رھی رات بھر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






