آنکھوں میں میں غم کو چھپائے پھرتا ہوں
Poet: داد بلوچ فورٹ منرو By: Dad Baloch, DG khanآنکھوں میں میں غم کو چھپائے پھرتا ہوں
زیست کی گٹھری سر پہ اٹھائے پھرتا ہوں
اس کے لب و رخسار کو روشن رکھنا ہے
جس کی خاطر دل کو جلائے پھرتا ہوں
اس کو دوں الزام جفا کا یا بے درد زمانے کو
ان سوچوں میں ذہن الجھائے پھرتا ہوں
بارش ہو کہ آندھی سب کچھ سہتا ہوں
فرسودہ رسموں کاسر پر بوجھ اٹھائے پھرتا ہوں
چاندنی راتیں دادؔ پہاڑوں پر گھوموں
چاند چکور کا ربط بڑھا ئے پھرتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






