نظر میں آئینہ ہے، اور پتھر سوچتے رہنا
Poet: Tariq Butt By: Gul Bose, Karachiنظر میں آئینہ ہے، اور پتھر سوچتے رہنا
پسِ منظر ہمیں اک اور منظر سوچتے رہنا
کبھی چن لینا اپنے گِرد تنہائی کی دیواریں
حصارِ ذات سے پھر آ کے باہر سوچتے رہنا
ہمیشہ اک نیا چہرہ لگائے ملتی ہے دنیا
اسے پہچاننا، اور پھر نیا ڈر سوچتے رہنا
کبھی یادوں کے جنگل سے دبے قدموں گذر جانا
کبھی ہر یاد کا ایک ایک تیور سوچتے رہنا
اُٹھائے جانا اپنے گِرد مجبوری کی دیواریں
کہا کھلتا ہے، کس دیوار میں، در سوچتے رہنا
نہیں لانا کبھی خاطر میں اک عالم کی بے مہری
کبھی پہروں کسی کی بے رُخی پر سوچتے رہنا
فسونِ آگہی طارق تمہیں پتھر بنا دے گا
تم اس کے توڑ کا بھی کوئی منتر سوچتے رہنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






