نظم وشمہ نے جو کہی گم صم
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیانظم وشمہ نے جو کہی گم صم
باغ اردو میں اک کلی گم صم
ذکر رہتا ہے جن کا شعروں میں
تیرے ہونٹوں کی تازگی گم صم
چاند نکلا تو میں بھی نکلوں گی
شام یادوں کی اک ڈھلی گم صم
رنگ پکنے میں دیر لگتی ہے
اپنی چاہت تو موسمی گم صم
مجھ کو غیروں کے ساتھ رہنا ہے
اپنے لشکر سے دشمنی گم صم
زندگانی ہے درد کا محور
آزمائش میں دوستی گم صم
عشق اترے گا ایک دن وشمہ
ان نگاہوں میں سادگی گم صم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






