نوید
Poet: Saba hassan By: saba hassan, Lahoreزرد پتوں کی قسم
بہار کے لمس نہیں بھولے
نہ فراموش کیے
سبز پتے
جھومتے پیڑ
چہچہاتے پنچھیوں کے محبت بھرے راگ سبھی
نشہء لافانی میں
اک نئی داستانِ جلوہء نور
اک بھرا پیمانہء حقیقت چھلک گیا جیسے
وقت کی اجڑتی مخملی گود میں سر رکھے
گدگداتے ھوئے
تھرکتے ھوئے
اٹھکیلیاں کرتے
لازوال لمحے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آن پہنچے ھیں
زرد آنچل کی گھنی چھاؤں میں
کسمساتے۔۔۔۔۔ پہلو بدلتے
یہ دلگیر لمحے
جھنجھوڑتے ھیں
دھتکارتے ھیں
نہ ھی ستاتے ھیں مجھے
تھام کر ھاتھ میرا اک رفاقت کی قسم
بھر کے آغوش میں اک عبادت کی قسم
کس وثوق سے
فخر کو شانوں پہ سجائے
خراماں خراماں
کڑکڑاتے ھوئے زرد پتوں کے سینے جلاتے
اک لجاجت سے
اک احسان دلپسندی سے
بہار کو ماتھے کا جھومر کر دیں گے
بے دلی سے ھی سہی مگر
بہار کی گود میں پھر لا پھینکیں گے
زرد موسم کی قسم
بہار کے رنگ نہیں بھولی میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






