نو عمر شہداء (سانحہ پشاور کے شہداء کو اک نذرانہ عقیدت)
Poet: حیاء غزل By: Haya Ghazal, Karachi♥♥♥نو عمر شہداء♥♥♥
ہم شہیدان علم کی روشن ہیں نظیر
سچائ کے پیکرتھے اور امن کے سفیر
ہم نے بنانی تھی اس ملک کی تقدیر
ہے آج لہورنگ ارادوں کی یہ زنجیر
ہم خاک وطن کے لیئےرشک مہ واختر
حق وصداقت کے امیں ننھے سے رہبر
ہم نے بنانا تھا اسے فردوس کا ہمسر
ہوتے ہیں رخصت آج سب سے یہ کہکر
ہم ہیںاماں رسول میں ماںبابا نہ رویئے
اپنا یقین کامل بحضوررب کعبہ نہ کھویئے
ہم گود میں بتول کے ہیں بے چیں نہ سویئے
ہم نواسہ رسول کی رفاقت میں ہولیئے
پوری قوم کے لیئے ہے یہ لمحہ فکر
ہم پر ہے جمی دشمنوں کی کڑی نظر
سنسان کر رہے ہیں وہ ہر بسا نگر
کرنا ہے انکا سامنا یک جان و بے خطر
ہراک گلی ...کوچہ کوئے قاتل ہے
آج گھر گھر میں رقص بسمل ہے
فاصلہ کیوں دلوں میں حائل ہے
بھائ کیوں بھائ سے ہی گھائل ہے
ز ند گی پر چھائے موت کے پہرے ہیں
خوں میں ڈوبے ہوئے سویرے ہیں
ہر جا ڈالے اداسیوں نے ڈیرے ہیں
شاہراہوں کے زخم کتنے گھیرے ہیں
سہمی آنکھوں میں رتجگے سے ہیں
کتنے چہرے بجھے بجھے سے ہیں
شوخ لہجے دبے دبے سے ہیں
سارے کوچے جلے جلے سے ہیں
تم جو چاہو تو یہ حالات بدل کر رکھ دو
دہر میںگردش آفات بدل کر رکھ دو
تیرہ بختی کے یہ لمحات بدل کر رکھ دو
چھائے مستقبل پر خدشات بدل کر رکھ دو
نوجوانوں تم اک نئ تصویر بنا سکتے ہو
ہر حسیں خواب کی تعبیر بنا سکتے ہو
اس ملک کی بگڑی ہوئ تقدیر بناسکتے ہو
پھرسے ہرکوچہ علم کی تنویر بناسکتے ہو
میرے مالک، میرے یارب اب تو کرم کردے
نور ایماں کا سب کے دلوں میں بھر دے
ہم کو شیطان کے گھیرے سے دور کردے
دیئے انسانیت کے اذہان میں روشن کر دے
(آمین)
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






