نہال عشق نے چُن چُن کے عاشق مارے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaبے ہنر تھے حُسن والے آج ماہر بن گئے
شریں مزاج کے حکمران زہر بن گئے
لایا وقت عجب تبدیلیاں اِس جہاں میں
گاؤں جو کل تلک تھے وہ شہر بن گئے
سفینے محبت کے ڈبو کے رونے لگا چناب
جذبات اُٹھے اِس قدر کہ لہر بن گئے
بدلے تو بدلے وہ کچھ اِس قدر ہائے!
اپنوں میں شامل تھے پھر غیر بن گئے
آباد تھے تو کوئی دیکھتا نہ تھا محل
اُجڑے تو سبھی کی قابلِ سیر بن گئے
مجبوریوں نے کاٹ دی جب زبان میری
لفظ میرے درد کے پھر شعر بن گئے
اُس کے اشاروں پے زندگی بسر کی میں نے
اُس نے کہا دوپہر تو دوپہر بن گئے
نہال عشق نے چُن چُن کے عاشق مارے
جو جو بچے بیچارے وہ شاعر بن گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






