نہ جانے کیا آج جی میں آ یا کہ تو مہت یاد آ رہا ہے
Poet: Anwar Kazimi By: anwar kazimi, mississauga, Canadaتو آ ج غیرو ں کی محفلو ں میں مجھے تو کا فر بتا رہا ہے
یہ بات کتنی عجب ہے ظالم ، کبھی تو میر ا خد ا رہا ہے
وہ میٹھا میٹھا سا پیا ر تیر ا ، وہ جھو ٹا سچا قرار تیرا
نہ جانے کیا آ ج جی میں آ یا کہ تو بہت یاد آ رہا ہے
کو ئی تعلق بنائے رکھنا ، ہنسی لبو ں پہ سجائے رکھنا
یہ بات سب سے چھپائے رکھنا کہ وہ تمہارا کہاں رہا ہے
ستارو ں کی انجمن میں کو ئی و فا کے نغمے سنا رہا ہے
تجھے بھی کچھ چپُ سی لگ گئی ہے، مجھے بھی کچھ یاد آ رہا ہے
تمہیں کبھی گر ملے جو فرصت ، تو جا کے کہہ د ینا پتھرو ں سے
جو کل تلک تھا پجاری اُ نکا ، وہ ر یت سے بت بنا رہا ہے
جو شعر پڑھتا تھا محفلوں میں، جو مست رہتا تھا رتجگوں میں
بسا تھا جو آ پ کے دلوں میں، سنا ہے وہ شخص جا رہا ہے
یہ عاشقی کا خیال انو ر ، ذ ہن سے اپنے نکال انو ر
کچھ اپنے د ل کو سنبھا ل انو ر ، بہت ترا نام آ رہا ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا






