نہ چاہتے ہوئے
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMنہ چاہتے ہوئے بھی پیار تجھے کیے جارہا ہوں میں
تیری یادوں کے سہارے جیے جا رہا ہوں میں
زندگی بھر جو زخم دیے تیری چاہت نے جاناں
اب رات دن انہیں سیے جارہا ہوں میں
تیری یاد میں بہتے ہیں جو آنکھوں سےآنسو
انہیں دوا سمجھ کر پیے جا رہا ہوں میں
تجھے بھولنے کی قسم کھائی تھی کبھی
اس کے برعکس تجھے یاد کیے جارہا ہوں میں
اصغر کا دل توڑنے والی تو سدا خوش رہے
دل کی گہرائیوں سے دعائیں دیے جارہا ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







