نیر چھپ کر مگر بہاؤ تم
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیادیا جیم کاوش 2
” حرفِ شکوہ نہ لب پہ لاؤ تم”
نیر چھپ کر مگر بہاؤ تم
اپنی چاہت کی روشنی دے کر
اپنی آنکھوں سے مسکراؤ تم
میں بھی چل دوں گی ساتھ دریا میں
ایک کشتی اگر بناؤ تم
پیار دوں گی میں زندگی کی قسم
شرط یہ ہے گلے لگاؤ تم
میں بھی دل تیرے ساتھ رکھ دوں گی
دل میں رستہ اگر بناؤ تم
مر بھی سکتی ہوں ہجر میں تنہا
آ بھی جاؤ نہ یوں ستاؤ تم
ساتھ دیں گے تمہارا پنچھی بھی
وشمہ چاہت کے گیت گاؤ تم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






