ہم کو ہر پل ہی آزماؤ تم
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکاوش 3 دیا جیم مشاعرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم کو ہر پل ہی آزماؤ تم
دل لگی میں بھی مسکراؤ تم
جس نے رکھی ہے آبرو جگ میں
اس کو نظروں سے مت گراؤ تم
اور بڑھتی ہے روشنی مجھ میں
آگ دل میں اگر لگاؤ تم
تم نے نفرت کی انتہا کر دی
اب محبت نہ آزماؤ تم
پیاس آنگن میں بڑھ رہی ہے مرے
اپنی آنکھوں سے کچھ پلاؤ تم
عشق ڈستا ہے رات دن مجھ کو
درد زخموں پہ مت لگاؤ تم
مجھ کو مارا ہے چبھتے فقروں سے
کاش کچھ پل ہی مان جاؤ تم
دھوپ چبھنے لگی ہے وشمہ جی
اپنی دنیا میں لوٹ جاؤ تم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






