وشمہ ہم اس نا خدا کی بندگی کیسے کریں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیالوٹ آؤ پھر ہوائیں مست ہیں اس شہر میں
بن ترے ہم جانِ جاں آوارگی کیسے کریں
صبر کا دامن کسی حالت میں اپنے ہاتھ سے
چھوڑ کر دیکھو یہ رب کی بندگی کیسے کریں
سوچتی ہوں جان محسن کی قبائیں اوڑھ کر
ہاتھ میں صاحب! قلم ہے ، شاعری کیسے کریں
پھیر لوں آنکھیں وفا سے کس طرح ممکن ہے یہ
وہ نہ میرے پاس ہو تو دلبری کیسے کریں
وہ چلا آئے گا اک لمحے میں پوجا کو مری
وشمہ ہم اس نا خدا کی بندگی کیسے کریں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






