وصل کا گیت سناتے کیوں ہو
Poet: Fakhra Batoo By: Shazia Hafeez, Attockوصل کا گیت سناتے کیوں ہو
ہجر کا درد چھپاتے کیوں ہو
بعد میں نیند جو وتل کرو گے
پہلے خواب جگاتے کیوں ہو
کرتا ہو جو شور آنکھوں میں
نام وہ لب پر لاتے کیوں ہو
پہلے خود ہی دل دے بیھٹے
اب احسان جتاتے کیوں ہو
کہہ دو مجھ کو بھول گئے تم
کہنے سے گھبراتے کیوں ہو
دیس کو خود پردیس بنایا
بولو اب پچھتاتے کیوں ہو
پلٹ کے جو گھائل کر ڈالے
ایسا تیر چلاتے کیوں ہو
سپنا تو سپنا ہوتا ہے
آگ کو برف بتاتے کیوں ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






