رخ ہواؤں کا بدلتا ہی گیا
Poet: Fakhra Batoo By: Shazia Hafeez, Attockرخ ہواؤں کا بدلتا ہی گیا
پیار جب دل میں اترتا ہی گیا
جب صبا نے کیا اظہار وفا
پھول چپ چاپ بکھرتا ہی گیا
آگ بجھنے لگی جب سینے کی
تو دھواں آنکھ میں بھرتا ہی گیا
آپ نے صرف مسیحائی کی
درد اک یوں حد سے گزرتا ہی گیا
جس نے بھی مانگا محبت کا صلہ
دل کو ہاتھوں سے وہ ملتا ہی گیا
کوئی طوفان تو آیا ہی نہیں
شہر جاں پھر بھی اجڑتا ہی گیا
جس نے بھی عشق کی راہوں کو چنا
دشت آباد وہ کرتا ہی گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







