وفا۔۔۔
Poet: Umar Farooq Umar By: Umar Farooq, Islamabadکیسے کرتے ہیں وفا آج بتا دوں تجھ کو
آ کہ دستور محبت بھی سکھا دوں تجھ کو
جن کی شہ سے جو بہت خوب پھدکتے ہو سنو
تیرے اپنوں کی بھی تصویر دکھا دوں تجھ کو
سامنا کرنے سے کترانا تو بنتا ہے تیرا
میں تو باتوں سے بہت دیر رلا دوں تجھ کو
تجھ کو اوقات دکھانے کو بہت کام آئے گا
آئینہ جو کہو!! ایک تھما دوں تجھ کو؟؟
جس کو پینے سے تیرے ہوش ٹھکانے آئیں
تو ذرا بیٹھ میں آنکھوں سے پلا دوں تجھ کو
یہ عمر زیب نہیں دیتا کہ میں ایسا کروں
ورنہ میں ایک تجلی سے جلا دوں تجھ کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






