وقت روٹھے بھی تو ساتھی نہیں روٹھا کرتے
Poet: Khalid Mahmood By: Khalid Mahmood, Abha_Saudi Arabiaوقت روٹھے بھی تو ساتھی نہیں روٹھا کرتے
دل ٹوٹے بھی تو بندھن نہیں ٹوٹا کرتے
کس قدر شوق تھا رشتوں کو نبھانے کا
ریت کی شاخ پہ کونپل نہیں پھوٹا کرتے
جانے والے نے نشاں بھی نہیں چھوڑے پیچھے
ساتھ چھوٹے بھی تو دامن نہیں چھوٹا کرتے
کب گلشن میں سبزے کی بہار آئے گی
خشک پیڑوں پہ پنچھی نہیں ٹھہرا کرتے
وقت بدلے تو انساں بھی بدل جاتے ہیں
غم کے دریا کے کنارے نہیں ٹوٹا کرتے
جس کے سر پہ رہیں ماں کی دعائیں خالد
اس مقدر کے ستارے نہیں ڈوبا کرتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






