وہی ادھ بجھی میری نیند ہے
Poet: Tariq Butt By: Gul Bose, Karachiوہی آہٹیں درو بام پر ، وہی رت جگوں کے عذاب ہیں
وہی ادھ بجھی میری نیند ہے ، وہی ادھ جلے میرے خواب ہیں
میرے سامنے یہ جو خواہشوں کی ہے دھند حدِّ نگاہ تک
پرے اس کے، جانے، حقیقیتں کہ حقیقتوں کے سراب ہیں
میری دسترس میں کبھی تو ہوں جو ہیں گھڑیاں کیف و نشاط کی
ہے یہ کیا، کہ آئیں اِدھر کبھی تو لگے کہ پا بہ رکاب ہیں
کبھی چاہا خود کو سمیٹنا تو بکھر کے اور بھی رہ گیا
ہیں جو کرچی کرچی پڑے ہوئے میرے سامنے میرے خواب ہیں
یہ نہ پوچھ کیسے بسر کیے ، شب و روز کتنے پہر جیے
کسے رات دن کی تمیز تھی ، کسے یاد اتنے حساب ہیں
اُنہیں خوف رسم و رواج کا ، ہمیں وضع اپنی عزیز ہے
وہ روایتوں کی پناہ میں ، ہم انا کے زیرِ عتاب ہیں
ابھی زخمِ نو کا شمار کیا ، ابھی رُت ہے دل کے سنگھار کی
ابھی اور پھوٹیں گی کونپلیں ، ابھی اور کھلنے گلاب ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






