صدائے موسم گل
Poet: Tariq Butt By: Gul Bose, Karachiتمام رنگ میں ڈوبی فضائے موسمِ گل
اُڑائے پھرتی ہے دل کو ہوائے موسمِ گل
ہمیں پہ چھا بھی گیا اور ہمیں سے چھپتا پھرے
ہمیں سمجھتے ہیں جو ہے ادائے موسمِ گل
سدا بہار ہیں گلشن کسی کی یادوں کے
نہ ابتدا ، نہ یہاں انتہائے موسمِ گل
جنوں ہی مو سمِ گل سے ہے تا بہ موسمِ گل
کسے ہے ہوش یہاں ماسوائے موسمِ گل
شکستِ خوابِ بہاراں سے اب ہے سرگرداں
یہ دل کہ تھا کبھی فرمانروائے موسمِ گل
یہیں لٹا تھا کبھی قافلہ بہاروں کا
یہیں سے ہو تو ہو پھر ابتدائے موسمِ گل
اک اضطراب گریباں کے تار تار میں ہے
کہیں ہے دور مگر ہے صدائے موسمِ گل
بقاۓ موسمِ گل کی دعائیں ہیں طارق
اگرچہ دردِ خزاں ہے عطائے موسمِ گل
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






