وہی ُدعا ہے جو لبوں پہ جاری ہے
Poet: Arooj Fatima Lucky By: Arooj Fatima Lucky, K.S.Aاک وجد ہے جو طاری ہے
کیسی بے وجہ کی خماری ہے
ُاس نے پہلو میں بیٹھ کر کہا
تیری ذات مجھ پر اب بھاری ہے
خوابوں کے آنگن سے کیسی نکلتی
نا تیری ، نا میری وہ بستی تو ہماری ہے
اک شوق ہے جو ختم ہی نہیں ہوا
وہی ُدعا ہے جو لبوں پہ جاری ہے
میری محبت پر ُاسے ترس نا آیا
وہ کاٹتا رہا جڑیں جیسے ہاتھ میں آری ہے
نفرتوں میں کچھ نہیں رکھا سمجھ جاؤ
اگر آج میری ، تو کل تمہاری بھی باری ہے
وہ ہر قدم پر ترک تعلق کرتا رہا مگر
میں نے بھی کہا لکی بس تمہاری ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






