وہ اگر آتے ہیں منانے کو
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiوہ اگر آتے ہیں منانے کو
میں بھی ہو پھر تیار جانے کو
ماں نے رو کر کہا ہے بیٹی کو
کیوں نہیں جاتی گھر بسانے کو
باپ کی بھی یہی تمنا ہے
تم چلی جاؤ گھر بچانے کو
بھوک سے لوگ مر رہے ہیں اب
پاس کچھ بھی نہیں ہے کھانے کو
آیا بن کر غذاب ہے سیلاب
لو گ ترسے ہیں دانے دانے کو
رہتے ہر وقت ہو پریشاں تم
کس نے روکا ہے مسکرانے کو
ہو گئی ختم شاعری میری
کچھ بچا ہی نہیں سنا نے کو
میرے شہزاد اپنے ہیں دشمن
آئے ہیں لوگ گھر جلانے کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






