وہ تہمتیں نہ لگاتا تو اور کیا کرتا
Poet: عالم نظامی By: مصدق رفیق, Karachiوہ تہمتیں نہ لگاتا تو اور کیا کرتا
مرے ہنر نہ چھپاتا تو اور کیا کرتا
کھڑی تھیں ہر سو مظالم کی آندھیاں پھر میں
چراغ حق نہ جلاتا تو اور کیا کرتا
غریبی ساتھ مرا دے رہی تھی بچپن سے
نہ اس کا ساتھ نبھاتا تو اور کیا کرتا
میں چھالے ماں کی ہتھیلی پہ دیکھتا کیسے
کمانے شہر نہ آتا تو اور کیا کرتا
تمام بستی پریشاں تھی روشنی کے لئے
میں اپنا گھر نہ جلاتا تو اور کیا کرتا
سمجھ رہا تھا فرشتہ وہ خود کو اے عالمؔ
میں آئنہ نہ دکھاتا تو اور کیا کرتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






