وہ جو پاگل ہے کبھی ایسا بھی کر سکتی ہے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiوہ جو پاگل ہے کبھی ایسا بھی کر سکتی ہے
میں نہ مل پایا تو جاں سے بھی گزر سکتی ہے
جس نے دور اس کو کیا مجھ سے وہ یہ تو سوچے
خود کشی بھی تو مرے بعد وہ کر سکتی ہے
انتظار اس کا صبح شام یونہی کرتا ہوں
میں نے منہہ پھیر لیا اس سے تو مر سکتی ہے
بس یہی سوچ تو سونے نہیں دیتی مجھ کو
رات تاریک ہے تنہائ میں ڈر سکتی ہے
وہ ستم سہہ کے بھی میرا ہی پکارے گی نام
میں نہیں مانتا الفت سے مکر سکتی ہے
اس دلاسے سے ہی سو جائیں یہ آنکھیں شاید
وہ مرے خواب کے آنگن میں اتر سکتی ہے
اپنے کمرے کو ٹٹولو تو سہی اے باقرؔ
اس کی خوشبو بھی تو کمرے میں ٹھہر سکتی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






