وہ خود بھی نہیں
Poet: Umair Shehzad By: Umair Shehzad, Gujranwalaوہ خود بھی نہیں اس کی
تصویر بھی نہیں
ایسی تو برے خواب کی
تعبیر بھی نہیں
اب تو ہی بتا مجھ کو
کہ پکاروں تجھے کیسے
کوئی دروازہ ، کوئی دستک
کوئی زنجیر بھی نہیں
جانے کیوں خفا ہے
مجھ سے میرا وجود
جب ناراض میری ذات سے
تقدیر بھی نہیں
بیٹھا ہوں تیری آس میں
اب تو چلے آئو
دیکھو! آج آنے میں
تاخیر بھی نہیں
یہ اثر تو پہلے ہی
کھو چکا تھا شہزاد
شائد میرے الفاظ میں
تاثیر بھی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






