وہ سمجھ رہا تھا خدا - خدا کے سوا
Poet: Arooj Fatima Lucky By: Arooj Fatima Lucky, K.S.Aدینے کو کچھ نہیں تھا وفا کے سوا
وہ سمجھ رہا تھا خدا - خدا کے سوا
معلوم تھا پھر بھی میں آزماتی رہی
کانٹوں میں آخر کیا تھا جفا کے سوا
پروں تلےنہ زمین تھی نا اوپر آسمان
۔ ُاس میں تھی بس انا - دغا کے سوا
ماں بیٹی کے رشتے میں بھی فریب آ گیا
میں کیا کہتی ماں کو فقط ُدعا کے سوا
۔ ُاس کا دیکھنا تھا کہ نظریں ُجھک گئی
مجھ میں ہے ہی کیا تھا - حیاء کے سوا
تیرے لہجے سے جواب مل گیا مجھے
جو سوال کرنا تھا ابھی عطا کے سوا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






