وہ لفظ بھی کتنے حسین ھیں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaوہ لفظ بھی کتنے حسین ھیں
جو سوچ سوچ کر
میرے لیے لکھتے ھو
جو تمہارے ہاتھوں
کو چھو کر آتے ھیں
جو تمہاری نظروں
سے گزر کر آتے ھیں
جو تمہاے دل سے
نکل کر آتے ھیں
جو تمہارے جذبات
بتاتے ھیں
جو تمہاری بے چینوں
کو بڑھا جاتے ھیں
جو تمہاری تنہائی
کے ساتھی ھیں
جو میری رو
کو مہکتے ھیں
جو مجھے دیوانہ
کر جاتے ھیں
جو میری اداس لمحوں کو
خوشی دے جاتے ھیں
جو میری ویرانیوں میں
رنگ بھر جاتے تھے
جو میرے دل کو محبت
سے نم کر جاتے ھیں
جو میری آنکھوں میں
تصور بن جاتے ھیں
جو مجھے اس دنیا
سے الگ کر جاتے ھیں
جو میرے خوابوں کو
حقیقت بنا جاتے ھیں
وہ لفظ بھی کتنے حسین ھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







