وہ مانا کہ اسے پیار ہوا
Poet: سید hammad razaنقوی By: syed hammad raza naqvi, Faisalabadآج شب نیند مے جب وہ بیدار ہوا
اسکی آنکھوں مے رضا خون جگر تار ہوا
اسکی سانسوں کا تسلسل بھی قائم نہ رہا
جب وہ یادوں کے بھنور مے گرفتار ہوا
پوچھ نہ عالم تنہائی مے ہے کیا گزری
چوٹ کھا کر بھی دل ان کا طلبگار ہوا
بات جو دل مے دبی تھی وہ ظاہر ہے ہوئی
تیر پلکوں نے اٹھایا تو غضب دھار ہوا
وہ آئینے کے عکس مے بھی چھپاتا تھا جسے
آج محفل مے وہ مانا کہ اسے پیار ہوا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






