وہ مجھے آزماتا رھا
میں اسے شرماتا رھا
پھر یوں ھی ماہ و سال گزرتے رھے
بظاہر ھم اجنبی رھے
حقیقت میں ھم اک دوسرے میں رھے
عجیب رشتہ اسطوار ھوا
نہ اس سے اقرار ھوا
نہ مجھ سے انکار ھوا
یہ آج تک مجھ پر نہ آشکار ھوا
کہ بے سبب ھی میں نے اسے پیار کیا
یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ مجھے سوچتا نہ ھو
کیوں کہ جسم پر اختیار ھے
پر روح پر اختیار نہیں
بس فقط میرا اک کام کر دینا
جب کبھی میری یاد ستائے
توصرف مسکرادینا
کہ مسکراہٹ دکھوں کو چھپالیتی ھے
تمہیں اپنا خیال رکھناھے میرے لیے
کہ تمھاری زندگی ہی تو میری زنندگی ہے