وہ مرے دل کو عداوت سے جلا بیٹھے ہیں
Poet: Zeeshan Lashari By: Zeeshan Lashari, Kunriوہ مرے دل کو عداوت سے جلا بیٹھے ہیں
خود مکیں جس کے تھے وہ گھر ہی گرا بیٹھے ہیں
آخرت میں بھی کہاں ان سے کریں گے شکوہ
ہم پہ جو ظلم ہوئے ہم تو بھلا بیٹھے ہیں
فائدہ اب ترے آنے کا بھلا کیا ہم کو
اب تو ہم جینے کی خواہش بھی مٹا بیٹھے ہیں
ہم پہ کیا خاک اثر وعظ کرے گا ناصح
جسم کیا روح کو بھی غم میں پلا بیٹھے ہیں
ان سے ملنے کا خسارہ بھی ذرا دیکھو تو
ایک ہی دل تھا ہمارا وہ گنوا بیٹھے ہیں
ہم نے تو خود پہ بھی کیا ظلم روا رکھے ہیں
سوزِ دل کو بھی تو اک ساز بنا بیٹھے ہیں
گر عیاں ایک بھی ہو حشر بپا ہو جائے
سینکڑوں زخم جو ہم دل میں چھپا بیٹھے ہیں
ہم نے معصوم سے چہرے سے لگایا دل تھا
کیا خبر تھی کہ ستم گر سے لگا بیٹھے ہیں
کون سی بات کا ہم شانؔ ادا شکر کریں
دو گھڑی پاس وہ بیٹھے تو کیا بیٹھے ہیں
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






