وہ مرے شہر کی گلیوں میں پھرا کرتا تھا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiوہ مرے شہر کی گلیوں میں پھرا کرتا تھا
اس طرح سامنے آنکھوں کے رہا کرتا تھا
توڑ دیتا تھا وہ اس شخص سے ناطہ بالکل
سامنے اس کے مرا جو بھی گلہ کرتا تھا
یوں بھی ہیں میرے عدُو آج مرے شہر کے لوگ
میری خاطر وہ جو ہر اک سے لڑا کرتا تھا
آج حیراں ہوں مجھے اس نے بھلایا کیسے
مجھ سے اک پل جو علیحدہ نہ رہا کرتا تھا
اس طرح مجھ سے کئی لوگ جلا کرتے تھے
وہ بھرے شہر میں جو مجھ سے ملا کرتا تھا
آج کیوں اس کو مری یاد نہیں آتی ہے
خط مجھے اپنے لہُو سے جو لکھا کرتا تھا
کتنی الفت تھی مرے نام سے اس کو باقرؔ
ہر زباں سے ہی مرا نام سنا کرتا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






