وہ مرے دِل میں اُترنے کا ہنر جانتے ہیں
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKوہ مرے دِل میں اُترنے کا ہنر جانتے ہیں
کون سی بات کا کیا ہوگا اثر جانتے ہیں
توُ ہی نا واقفِ حالِ غمِ دِل ہے ، ورنہ
حالِ غم میرا سبھی نجم و قمر جانتے ہیں
کھو دیا ہم نے جہاں اُن کو ہمیشہ کے لیۓ
وہ گلی دیکھی ہے ہم نے ، وہ ڈگر جانتے ہیں
ایک تاریخ ہے وہ بھوُلے ہوۓ ماضی کی
سب جسے بوڑھا سا برگد کا شجر جانتے ہیں
امتحاں ایک نیا ہوتا ہے ہر رستے پر
زندگی گویا ہے کانٹوں کا سفر ، جانتے ہیں
ہم کو جو کچھ بھی ملا شہرِ وفا میں عذراؔ
ہم اسے اپنی تمنا کا ثمر جانتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






