اچھا لگا بچھڑ کرہمیں تمہارا یوں ملنا
Poet: Shaheen Mughal By: Shaheen Mughal, gjn,Pakistan اچھا لگا بچھڑ کر ہمیں تمہارا یوں ملنا
اچھا لگا کیا تمہیں بھی ہمارا یوں ملنا
ناؤ منجدھار میں تھی اپنی زندگانی کی
اچھا لگا ایسے میں اسے کنارہ یوں ملنا
ایک عمرگزاری ہم نے فراق میں اس کے
اچھا لگا اچانک اس کا نظارہ یوں ملنا
مایو سیوں کے بادل چھٹتے نظر آئے
اچھا لگا ہمیں زندگی کا اشارہ یوں ملنا
زندگی کو زندگی سےزندگی کرنے کے لئے
اچھا لگا شاہین کوزندگی سے دوبارہ یوں ملنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






