وہ ملے غم کہ بس شمار گئے
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالوہ ملے غم کہ بس شمار گئے
جنہیں پھر خُوں ہوئے سہار گئے
جانیے تھی وہ زندگی کس کی
مرتے دم تک جسے گزار گئے
مجھ سے راتیں مری نہ ہوئیں بسر
دن مرے دِن مجھے بسار گئے
کبھی سوچا بھی تُو نے تیرے سبب
کتنوں کے خُود سے اختیار گئے
دکھ یہ ہے کہ وہ کلی نہ پھول ہوئی
اور یہ غم اُس کلی سے خار گئے
غمِ ہجراں میں کیا نہ کھویا گیا
چیتھڑے تک بدن کے تار گئے
ہمیں بخشا گیا فراق اپنا
قرض تھا اُن پہ، سو اُتار گئے
ہوئی کربل بپا جب اُٹھ کے ہم
اُس گلی سے دِوانہ وار گئے
رن میں افسوس قتل نہ ہو سکا
ہائے قسمت کہ خالی وار گئے
میں تلاشِ رقیب میں تھا غرق
کیا خبر یار کب سِدھار گئے
کتنے ہی آستاں ہوئے ویران
کتنے مقبول خاک و خوار گئے
آخرش جیت کس کی پیاری تھی
جس کی خاطر ہر اِک سے ہار گئے
ہمیں عادت تھی روز مرنے کی
یُوں ہمیں چھوڑ جاں نثار گئے
پیتا اب بھی ہوں لڑکھڑاتا نہیں
مے کشی رہ گئی، خمار گئے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






