وہ موسم کی پہلی نمی کی طرح
Poet: Mubashir Jameel khayali By: Mubashir Jameel , Karorpakkaوہ موسم کی پہلی نمی کی طرح
کبھی رات بھر کی کمی کی طرح
وہ آہستہ آ کر چھو جائے دل کو
کسی بند دل کی خوشی کی طرح
یہ خاموش لمحے، یہ مہکی ہوا
یہ پلک پہ ٹھہری کوئی التجا
محبت کا مطلب سمجھنے لگے
جو بے نام ہو، پھر بھی ہو آشنا
کبھی ایک جھلک، اور صدیوں کا خواب
کبھی دھڑکنوں میں چھپا ایک باب
جو لفظوں میں آئے، مگر کم لگے
یہ جذبہ ہی رکھتا ہے سارا حساب
وہ دستک، جو دل کے سکوتوں میں ہو
وہ خوشبو، جو ہر سانس سے گفتگو
نہ شرطیں، نہ وعدے، نہ دعوے، قسم
محبت فقط ہو، یہی ہے وضو
خیالی لکھے جو، وہ جملے نہیں
وہ آنکھوں سے بہتے ہوئے سلسلے
کہ جذبہ ہو سچا، تو کہنے کی کیا
محبت تو چپ میں بھی کہتی ِگلے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






