ُاس نے تو ہاتھ ہی بڑھایا تھا لکی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaدعا تھی ، صدا تھی
کوئی سمجھے تو عطا تھی
خشبوں تھی ، سما تھے
تو نہیں تو سب ویران تھے
آنکھ میں خواب تھے
خواب میں تعبیر تھی
پھر کیوں ُاسی سے محبت ہوئی
جس کے پاؤں میں
مجبوریوں کی زنجیر تھی
ہاتھ تھے ، لکیر تھی
نجانے میری قسمت بھی
کیوں اتنی فقیر تھی
تڑپ تھی تڑپ ہیں
وہ آیا خود ملنے مجھ سے
وہ دن تھا یا پھر عید تھی
خزاں تھی بہار تھی
راستے میں کیسی دیوار تھی
یوہی بھیگ گئی میری آنکھیں
شاید تھک گئی میری ذات تھی
ُاس نے تو ہاتھ ہی بڑھایا تھا لکی
کہا خبر تھی کہ پیچھے بارات تھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






