ٹوٹ کر کبھی اور بھی ٹوٹ جانا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaٹوٹ کر کبھی اور بھی ٹوٹ جانا
کبھی کبھی یوں ہی خود سے روٹھ جانا
تم دے دینا یہ پیغام ُاسے
وہ مر جائے تو بے شک لوٹ جانا
وہ کس طرح بدل لیتا ہے خود کو
لکی تم ُاس کے پاس جا کر خود کو نا بھول جانا
آنکھیں نم ہونٹ خشک ہو گئے
اے دل ُاس کے جاتے ہی تم پتھر ہو جانا
یہ دیواریں ہی تو اب اپنی لگتی ہیں
اب دیواروں کو ہی تم اپنا دکھ بتا جانا
چلو مرنے تک اک سفر پر ساتھ چلتے ہیں
وہاں سے لوٹ کر چاہے تم بھول جانا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






