میرے پاس بھی ہو تم اور دور بھی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمیرے پاس بھی ہو تم اور دور بھی
کہنا چاہو بہت کچھ لیکن ہوں مجبور بھی
خاموشیوں کی زبان بھی ہوتی ہے
خاموش رہ کر تمہیں کروں کبھی بور بھی
رات کے آخری پہر دستک دی یادوں نے
دروازہ کھولنا چاہوں لیکن ہوں خفاء بھی
تمہیں سننا ہی تو تھا جو فون کر دیا
آواز سن کر ہوگئی ہوں اور بے تاب بھی
میرے قلم نے شاید روزہ رکھ لیا
کئی دن لفظوں سے ہوں ناراض بھی
وہ کتنا خوش ہیں اپنی دنیا میں
لیکن میں اپنی دنیا میں ہوں اداس بھی
کب کرو گے سوچوں سے رہا مجھے
تھک گئی ہوں سوچ سوچ کر یہ سوال بھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






