پاس آ کر نہ دُور ہو جانا
Poet: ورد بزمی By: ورد بزمی, اسلام آبادپاس آ کر نہ دُور ہو جانا
وقت کی بھیڑ میں نہ کھو جانا
بانہیں کھولے ہُوئے سمندر ہُوں
اپنے دکھ مجھ میں سب ڈبو جانا
موسموں سے جو بے نیاز رہیں
ایسی خوشیوں کے بیج بو جانا
نخلِ امید سُوکھنے کو ہے
ابر بن کر اسے بھگو جانا
اب کے، محرومیوں کے حسرت کے
میرے ماتھے سے داغ دھو جانا
آسماں کو زمین کر لینا
چاند تکیہ بنا کے سو جانا
رُوح و دل میں اُترنا چاہو تو
خوشبوئے وَرۡد میں سمو جانا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






