پتھر دیکھائی دیتا ہے
Poet: Amiruddin Amir By: Syed Amirudin Amir, Shahdadpur Sindhگلی کے موڑ پر اکثر دیکھائی دیتا ہے
وہ آدمی مجھے پتھر دیکھائی دیتا ہے
اٹھا کے کشتیاں کاغذ کی اپنے کاندھے پہ
تھکا تھکا سا سمندر دیکھائی دیتا ہے
کبھی ہو ساز میں ڈھلتا ہے راگنی کی طرح
کبھی ہو ساز کا پیکر دیکھائی دیتا ہے
نہ بچ سکے گا کسی طرح گلستاں اب کے
ہوا کے ہاتھ میں خنجر دیکھائی دیتا ہے
جلے جلے سے مکاں اور لہو لہو سے بدن
نگر نگر یہ ہی منظر دیکھائی دیتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






