Kaho
Poet: Nadim Sarwar By: Mohammad Nadim Sarwar, Lahore
Kaho,
Woh Dasht Kesa Tha?
Jidhar Sub Kuch Luta Aaye
Jidhar Aankhain Ganwa Aaye
Kaha,
Sailab Jesa Tha,
Bohot Chaha Keh Bach Niklain Magar Sub Kuch Baaha Aaye
Kaho
Woh Hijr Kesa Tha?
Kabhi Choo Ker Usay Dekha
To Tum Nay Kia Bhala Paya
Kaha,
Bus Aag Jesa Tha,
Usay Choo Ker To Apni Rooh Ye Tann Mann Jala Aaye
Kaho,
Woh Wasl Kesa Tha
Tumhain Jab Chuu Liya Us Nay
To Kya Ehsas Jaga Tha?
Kaha,
Ik Raastay Jesa,
Jidhar Say Bus Guzarna Tha, Makan Lekin Bana Aaye
Kaho,
Woh Chand Kesa Tha?
Falak Say Jo Uttar Aaya!
Tumhari Aankh Main Basnay
Kaha,
Woh Khawab Jesa Tha,
Nahin Taabeer Us Ki, Usay Ik Shab Sula Aaye
Kaho,
Woh Ishq Kesa Tha?
Bina Perkhay Kia Tum Nay
Kaha,
Titlii Ke Rang Jesa,
Bohat Kachaa Anokha Sa, Jabhi Us Ko Bhula Aaye
Kaho,
Woh Naam Kesa Tha?
Jisay Sehraaon Or Chanchal
Hawaon Per Likha Tum Nay
Kaha,
Bus Mosmoon Jesa,
Na Janay Kis Tarha Kis Pal Kisi Ro Main Mita Aaye
Suno,
Khawahishon Ki Lehron Per Sambhalna Kyun Hua Mushkil?
Bataya ,
Paanion Per Khawab Ki Rakhi Bina Jesay
Bhala Tum Rooh Ki In Kirchion Main Dhoondtay Kia Ho?
Kaha,
Yeh Itni Roshan Hain Keh Sooraj Hai Diya Jesay
Suno Aankhon Hi Aankhon Ka Bayan Kesay Laga Tum Ko?
Laga,
Phoolon Say Sargoshi Si Kerti Hai Saba Jesay
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






