پچھلے پہر کی رات ڈارتی رہی مجھے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiپچھلے پہر کی رات ڈراتی رہی مجھے
اک اجنبی کی یاد ستاتی رہی مجھے
سوئی ہوئی تھی میں تو حسیں گل کی گود میں
تتلی تمہارے شعر سناتی رہی مجھے
اب تک وہ تیرے پیار کی لزت نہیں گئی
ہر وقت سینے سے جو لگاتی رہی مجھے
دیکھا تو اس کی آنکھ میں تصویر تھی مری
جو زندگی کے خواب دکھاتی رہی مجھے
ہر دم میں تیرے عشق میں شعلہ بنی رہی
ہجرت میں تیری یاد جلاتی رہی مجھے
وشمہ میں ساتھ ساتھ تھی فصلِ بہار کے
خوشبو کلی کلی یہ سجاتی رہی مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






