ہم سفر دل مرا نہیں لگتا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiہم سفر دل مرا نہیں لگتا
اب ادھر دل مرا نہیں لگتا
شہر آباد کام کوئی نہیں
دیکھ کر دل مرا نہیں لگتا
یاد آتے ہیں دوست بچپن کے
بے خبر دل مرا نہیں لگتا
ہے میسر مجھے یہاں ہر چیز
کیوں مگر دل مرا نہیں لگتا
کمرے روشن لگے مقفل ہیں
اپنے گھر دل مرا نہیں لگتا
ظلم ہوتا غریب پر ہے کیوں
سوچ کر دل مرا نہیں لگتا
پھول اب تک نہیں کھلے شہزاد
پے ثمر دل مرا نہیں لگتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






