پھر بتانا شراب کس کے لئے؟
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillیہ سہانے سے خواب کس کیلئے
پھر نیا انقلاب کس کے لئے
ہم نے کانٹوں کی تمنا کی ہے
ہاتھ میں پھر گلاب کس کیلئے
چشم ساقی میں دیکھ لو دم بھر
پھر بتانا شراب کس کیلئے
تیری جنت کے ہی مکین تھے ہم
پھر سراپا حجاب کس کیلئے
میرا کچھ ہے ہی نہیں تیرے سوا
پھر حساب و کتاب کس کیلئے
تم کبھی سامنے آؤ تو کہوں
زندگی کا یہ باب کس کیلئے
شام کے دھندلکوں کو کیسے پتہ
دل نے دیکھے سراب کس کیلئے
امیدیں چھین کر پھر رہنے دیا
روح میں اضطراب کس کیلئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






