پھر جل اٹھا امید کا یہ جان کر دیا
Poet: عین رحمٰن By: عین رحمٰن, ایبٹ آبادپھر جل اٹھا امید کا یہ جان کر دیا
یاروں نے ہم پہ پھر کوئی احسان کر دیا
دل کا کھنڈر اگرچہ، ویراں تھا دیر سے
امید کے گلوں سے گلستان کر دیا
اک سنگدل،خنک سے،بے رحم شخص کی
پیہم نوازشات نے ، ہمیں حیران کر دیا
یادوں کے ٹھرے پانیوں میں سنگِ التفا ت
یکدم گرا کے واقفِ ہیجان کر دیا
اک عمر بعد چل تو پڑی لطف کی ہوا
شوقِ ملن سے دست و گریبان کر دیا
ہم آپ کی عنایت و اکرام کے طفیل
تھے کس قدرسبک، مگر ذی شان کر دیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






