پھیلی ہے جو آنکھوں میں وہ لالی تو نہیں ہے
Poet: zain shakeel By: zain shakeel, gujratپھیلی ہے جو آنکھوں میں وہ لالی تو نہیں ہے
موجود ہے تُو دل میں خیالی تو نہیں ہے
تعویز محبت سے بچاؤ کا بھلا کیوں؟
میں نے یہ مصیبت کبھی پالی تو نہیں ہے
رہتا ہے تبسم کا طلبگار وہ تیرے
ورنہ وہ کسی در کا سوالی تو نہیں ہے
میں خاص سے لوگوں میں بڑا عام ہوں لیکن
تو خوب ہے پر اتنا مثالی تو نہیں ہے
چاہا ہے مجھے اُس نے محبت سے بھی زیادہ
کیا یہ بھی مری خام خیالی تو نہیں ہے؟
ازبر تھا کسے شہر میں آنکھوں کا ہنر اور
یہ بات کہیں تو نے اچھالی تو نہیں ہے؟
میں نے تو ترے خط بھی جلائے نہیں اب تک
تو نے بھی کوئی یاد سنبھالی تو نہیں ہے؟
شاید تری دستک سے ہی کھل جائے کوئی دَر
اب زینؔ یہاں گھر کوئی خالی تو نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






