ہو سکتی نہیں جس کی کوئی بات علیحدہ
Poet: zain shakeel By: zain shakeel, gujratہو سکتی نہیں جس کی کوئی بات علیحدہ
اس شخص سے اب کیسے کریں ذات علیحدہ
دنیا سے نبھاؤں یا کروں تم سے محبت
پہلے تو ہوا کرتے تھے حالات علیحدہ
وہ شہر کو پہلے ہی سنا آتا ہے ہر بات
کرتا ہی نہیں مجھ سے کوئی بات علیحدہ
ان ہجر کے طعنوں پہ بھی رو پڑتا ہے یہ دل
آنکھوں سے ہوا کرتی ہے برسات علیحدہ
تم بھی تو نہیں کرتے رہے ہجر کا ماتم؟
کیا تم نے گزاری ہے کوئی رات علیحدہ؟
وہ شخص، زمانے میں سمایا ہوا اک شخص
ہے جس کی زمانے سے ہر اک بات علیحدہ
فرصت میں کبھی زین اسے دیکھ نہ پائے
اب کیسے کریں اس سے ملاقات علیحدہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






